2

آئی ایم ایف کے ساتھ چوتھے اقتصادی جائزے کیلئے مذاکرات اگلے ہفتے ہوں گے

حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہوں گے، جس دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور بجلی و گیس کے گردشی قرضے کے تصفیے سے متعلق منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام میں اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت اور توانائی کے شعبے میں جاری اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ڈسکوز کی نجکاری پر بھی بریفنگ

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے لیے ٹیرف طے کرلیا ہے تاہم نیلامی کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان الیکٹرک کمپنیوں کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹس پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔

مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں نے بھی تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس کے حوالے سے حکومت مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔

گردشی قرضہ اور بجلی ٹیرف بھی زیرِ بحث

ذرائع کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1614 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جنوری 2027 میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل متوقع ہے۔

اگلے سال بجلی کی سبسڈی مستحق صارفین کو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ تاہم بجلی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے اور کراس سبسڈی ختم کرنے کی صورت میں ٹیرف میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کے دوران توانائی اصلاحات، نجکاری اور گردشی قرضے میں کمی سے متعلق اقدامات کو آئی ایم ایف کے اقتصادی جائزے کا اہم حصہ سمجھا جارہا ہے۔