3

بلی کے خاندان کی نئی نسل دریافت، جینیاتی تحقیق کا آغاز، بلی کی پانچ الگ جینیاتی نسلیں موجود ہیں، سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھ دیا گیا

جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں سائنس دانوں نے بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک نئی نسل دریافت کی ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے بعد سامنے آنے والی بلی کی پہلی نئی سائنسی طور پر تسلیم شدہ نسل ہے۔ اس نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھا گیا ہے جبکہ مقامی آبادی اسے ”ٹِلکایو“ کے نام سے پکارتی ہے۔ یہ بلی جنوبی امریکا میں پائی جانے والی ”ٹائیگر کیٹس“ کے گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا وزن تقریباً پانچ پاؤنڈ یعنی دو سے ڈھائی کلوگرام کے قریب ہے۔ اس کا جسم دبلا پتلا اور ہلکے بھورے رنگ کی کھال پر گہرے گول پھول نما دھبے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ چھوٹی جسامت میں کسی تیندوے جیسی دکھائی دیتی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق بولیویا میں اس بلی کی خصوصیات پہلے سے موجود ٹائیگر کیٹس سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، جس پر محققین نے جینیاتی تحقیق کا آغاز کیا۔ سائنس دانوں نے جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے عجائب گھروں کے نمونوں سمیت 38 ٹائیگر کیٹس کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ جن جانوروں کو پہلے ایک ہی قسم کی بلی سمجھا جاتا تھا، ان میں دراصل پانچ الگ جینیاتی نسلیں موجود ہیں۔