امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور ایران پر نئی پابندیوں سے متعلق بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کرلیا، جس کے بعد بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری اور دستخط کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔
قانون سازی کے تحت صدر ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ چین اور بھارت ان ممالک میں شامل ہیں جو روسی توانائی کے بڑے خریدار ہیں۔ تاہم ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ صدر کے اختیار سے مشروط ہوگا۔
روسی توانائی اور شیڈو فلیٹ بھی نشانے پر
بل میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے علاوہ ان ٹینکرز کے خلاف بھی اقدامات کی گنجائش رکھی گئی ہے جو موجودہ پابندیوں سے بچنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔
قانون سازی میں روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں پر پابندیوں کو وسعت دینے جبکہ ایران سے متعلق امریکی پابندیوں میں بھی اضافہ کرنے کی شقیں شامل ہیں۔
سینیٹ پہلے ہی منظوری دے چکی
امریکی سینیٹ نے اگست میں یہی بل 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد اب بل صدر ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔
بل کو ایوان میں دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، تاہم بعض ارکان نے صدر کو وسیع ٹیرف اختیارات دینے پر اعتراضات بھی اٹھائے۔
روس کا ردعمل
روسی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ مزید امریکی پابندیاں یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
بل کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صدر ٹرمپ نئے قانون کے تحت حاصل اختیارات کو کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔




